جمعرات 5 فروری 2026 - 15:21
سرکار وفا حضرت عباس علمدار علیہ السلام

حوزہ/ تاریخ صرف واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ کرداروں کی ترجمان بھی ہے۔ کچھ کردار اقتدار کے لئے جیتے ہیں اور کچھ کردار حق کے لئے قربان ہو جاتے ہیں۔ کربلا میں اقتدار و تخت والی سیاست و کردار شکست کھا گیا اور حضرت عباس علیہ السلام کی وفا، اخلاص اور اطاعت ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گئی۔ 

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی | تاریخ صرف واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ کرداروں کی ترجمان بھی ہے۔ کچھ کردار اقتدار کے لئے جیتے ہیں اور کچھ کردار حق کے لئے قربان ہو جاتے ہیں۔ کربلا میں اقتدار و تخت والی سیاست و کردار شکست کھا گیا اور حضرت عباس علیہ السلام کی وفا، اخلاص اور اطاعت ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گئی۔

دور حاضرہ میں ریاست طاقتور ہے، مگر اخلاق سے خالی ہے۔ قانون موجود ہے، مگر مظلوم انصاف سے محروم ہے۔ جمہوریت کا نام ہے، مگر آواز صرف سرمایہ دار کی سنی جاتی ہے۔ ایسے میں حضرت عباس علیہ السلام کا کردار ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ طاقت اگر اخلاق کے تابع نہ ہو تو یزیدیت بن جاتی ہے، ریاست اگر کمزور کے آنسو نہ دیکھے تو فتنہ بن جاتی ہے اور سیاست اگر خدمت کے بجائے مفاد بن جائے تو فساد بن جاتی ہے۔

حضرت عباس علیہ السلام کے پاس طاقت تھی، لشکر تھا، جنگی مہارت تھی، مگر انہوں نے طاقت کو خدمت کے لئے استعمال کیا، اقتدار کے لئے نہیں۔ جب کہ آج دنیا میں مظلوم صرف وہ نہیں جو کمزور ہے، بلکہ وہ بھی ہے جسے نظرانداز کر دیا گیا ہو۔ اقلیتیں، مہاجرین، پسے ہوئے طبقات—یہ سب آج کے خیمہ نشین ہیں۔ ان کے سامنے فرات ہے—مگر دروازے بند ہیں۔

حضرت عباس علیہ السلام کا عملِ سقایت بتاتا ہے کہ سب سے بڑا جرم صرف ظلم کرنا نہیں بلکہ ظلم کو معمول بنا دینا بھی ہے، سب سے بڑی خیانت حملہ نہیں بلکہ خاموش تماشائی بن جانا بھی ہے۔

حضرت عباس علیہ السلام راہ سقایت میں قربان ہو گئے،‌ یہ محض ایک عمل نہیں تھا، یہ اقتدار کی بے رحمی کے خلاف اخلاقی احتجاج تھا۔

آج جنگ میدان میں کم، میڈیا میں زیادہ لڑی جاتی ہے۔ اور جھوٹے بیانیے وہ نیزے ہیں جن سے سچ کو زخمی کیا جاتا ہے اور جھوٹ کو شہید بنایا جاتا ہے۔ ایسے وقت میں حضرت عباس علیہ السلام کی علمداری آواز دیتی ہے کہ عَلَم وہ نہیں جو سب اٹھائیں، عَلم وہ ہے جو سچ کے لئے اٹھے۔

آج علمداری کا تقاضہ یہ ہے کہ جھوٹ کو برملا کیا جائے، نفرت کو مذہب نہ بننے دیا جائے اور سچ بولنے کی قیمت ادا کی جائے۔

خطرناک وہ نہیں جس پر ظلم ہو، بلکہ وہ ہے جو ظلم کو معمول سمجھ لے۔ خوف جب اجتماعی ہو جائے تو بغاوت مر جاتی ہے۔ ایسے موقع پر حضرت عباس علیہ السلام کی سیرت آواز دیتی ہے کہ اگر کچھ لوگ کھڑے ہو جائیں تو امید جاگ سکتی ہے۔ حالات بدلے جا سکتے ہیں۔

دور حاضر میں مذہب کو اقتدار کی سیڑھی بنا لیا گیا ہے۔ نعرے بلند ہیں، مگر ضمیر خاموش۔ حضرت عباس علیہ السلام ہمیں بتاتے ہیں کہ دین اقتدار کا جواز نہیں، انکار کا حوصلہ دیتا ہے، جو دین ظلم کے ساتھ سمجھوتہ کرے‌ وہ دین نہیں، سودا ہے۔ حضرت عباس علیہ السلام نے دین کو استعمال نہیں کیا بلکہ دین پر قربان ہو گئے۔

آج کی نوجوان نسل کے ہاتھ میں طاقت ہے—تعلیم، ٹیکنالوجی، آواز ہے مگر سوال یہ ہے کہ کس کے لئے؟ حضرت عباس علیہ السلام کا کردار بتاتا ہے کہ طاقت اگر اصول کے بغیر ہو تو فساد ہے، علم اگر ذمہ داری کے بغیر ہو تو فریب ہے، آپ نے اپنی جوانی کو امام کی خدمت میں فنا کر دیا—یہی اصل انقلابی عمل ہے۔

حضرت عباس علیہ السلام کا واضح منشور ہے کہ اقتدار نہیں بلکہ اقدار، حملہ نہیں بلکہ وفا، مفاد نہیں بلکہ موقف اہم ہے۔اور یہی انسانیت کا منشور ہے۔

حضرت عباس علیہ السلام کا واضح پیغام ہے کہ خود کو یزیدی نظام کا حصہ مت بناؤ، آغوش ظلم میں پناہ مت لو، ظلم کے سامنے سکوت میں عافیت نہ سمجھو۔

آج بھی اگر کوئی سچ کے ساتھ کھڑا ہے، طاقت کے سامنے جھکا نہیں اور مظلوم کی پیاس کو اپنی پیاس پر مقدم رکھتا ہے، تو سمجھ لو کہ وہ زندہ ہے۔

دور حاضر میں جب ہر جانب انسان خود کو نمایاں کرنے کے لئے دامن اطاعت کو چھوڑ رہا ہے، بندگی کو بالائے طاق رکھے ہے اور اسے یہ خوف لاحق ہے کہ اگر ایسا نہ کیا تو وہ گمنام ہو جائے گا تو ایسے موقع پر سیرت حضرت عباس علیہ السلام سبق دیتی ہے کہ اطاعت و بندگی چھوڑنے سے نہ دنیا میں مقام حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی آخرت میں کوئی مقام حاصل ہوتا ہے۔ البتہ جو خدا، رسول اور اولی الامر کا مطیع محض بن جاتا ہے صدیاں گزر جاتی ہیں لیکن نہ وہ مٹتا ہے نہ اس کا تذکرہ ختم ہوتا ہے۔

آج بھی کربلا میں جہاں ولایت کا سورج جلوہ گر ہے وہی وفا کا چاند بھی نمایاں ہے۔

سلام ہو عبد صالح پر

سلام ہو اللہ، رسول اور اولی الامر کے مطیع محض پر

سلام ہو مجاہد راہ خدا پر

سلام ہو علمدار سید الشہداء علیہ السلام پر

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha